عزت افزائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آبرو زیادہ کرنا، قدر یا وقعت بڑھانا، توقیر بلند کرنا، مرتبہ زیادہ کرنا۔ "ڈاکٹر فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں میری بڑی عزت افزائی کی ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ١٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عزت' کے ساتھ فارسی صیغہ امر 'افزا' کے بعد 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'افزائی' لگانے سے مرکب 'عزت افزائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٤٩ء کو "فرحت مضامین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آبرو زیادہ کرنا، قدر یا وقعت بڑھانا، توقیر بلند کرنا، مرتبہ زیادہ کرنا۔ "ڈاکٹر فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں میری بڑی عزت افزائی کی ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ١٣ )

جنس: مؤنث